Sunday, 28 January 2018

تعارف پروفیسر علامہ قاضی طاہرالہاشمی..


---------- تعارف مصنف ---------
پروفیسر علامہ قاضی محمد طاہر علی الہاشمی معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا قاضی چن پیر الہاشمی کے گھر سکول ریکارڈ کے مطابق 9 جنوری 1953ء کو تحصیل حویلیاں کے گاؤں رجوعیہ میں پیدا ہوئے۔۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدگرامی اور تایا جان مولانا قاضی عبدالواحد صاحب (جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید تھے) سے حاصل کی۔۔1963ء میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا قیام عمل میں آیا جس کا باقاعدہ افتتاح 9 /اکتوبر 1963ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کیا، آپ کے والد محترم کو تدریس کے لئے بلایا گیا تو وہ آپکو بھی اپنے ساتھ لے گئے، حالانکہ اس وقت آپ کی عمر 10سال تھی۔۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے پہلے صدر علامہ شمس الحق افغانی اس یونیورسٹی میں بحیثیت ’’شیخ التفسیر‘‘ اور علامہ احمد سعید کاظمی بحیثیت ’’شیخ الحدیث‘‘ جبکہ جامعۃ الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید نعمانی اس وقت نائب شیخ الحدیث کے فرائض انجام دے رہے تھے۔۔جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں 9 سالہ قیام کے دوران آپ نے شہادت العالمیہ کا نصاب مکمل کیا جس میں تفسیر و اصول تفسیر، حدیث و فقہ، عربی ادب، انگریزی، معاشیات کے مضامین مستند علماء سے پڑھیں۔۔آپکی قابلیت کو دیکھتے ہوئے حضرت علامہ شمس الحق افغانیؒ نے آپ کو ’’سند القرآن الکریم‘‘ اور علامہ احمد سعید کاظمی نے آپ کو ’’سند اجازۃ فی روایۃ الحدیث‘‘ کی اضافی سندات سے نوازا۔۔جامعہ اسلامیہ میں قیام کے دوران آپ نے جن گرامی قدر اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ان میں علامہ شمس الحق افغانیؒ، علامہ احمد سعید کاظمی اور نائب شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید نعمانی کے علاوہ کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔۔معروف مبلغ اسلام مولانا محمد احمد صاحب بہاولپوری، ڈاکٹر الٰہی بخش جاراللہ، مولانا لطافت الرحمن (فاضل دیوبند)، شیخ مولانا سید حبیب اللہ شاہ بنوری (فاضل دیوبند) مولانا حسن الدین ہاشمی (شیخ الفقہ) ، ڈاکٹر محمد حسن ازہری (شیخ الادب) ، ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ (شیخ التاریخ)، مولانا شیخ کلیم اللہ، مولانا محمد فرید، مولانا محمد ناصر، پروفیسر چراغ عالم قریشی (صدر شعبہ انگریزی) پروفیسر محمد زبیر (شعبہ اکنامکس) وغیرہ۔۔
1973ء میں مولانا قاری فضل ربی صاحبؒ (مہتمم معہدالقرآن الکریم مانسہرہ) نے آپ کو سند القراءت والتجوید للفرقان الحمید علی روایۃ حفص کی اعزازی سند عطا کی۔۔1976ء میں آپ نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔۔پھر مائیگریشن کے بعد 1977ء میں پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔۔ جنوری 1978ء گورنمنٹ کالج سدہ (کرم ایجنسی) میں اسلامیات کے ’’ایڈہاک لیکچرر‘‘ کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔۔مئی 1978ء میں ’’پبلک سروس کمیشن صوبہ سرحد‘‘ کی طرف سے بھی عربی و اسلامیات کے لیکچرر کی حیثیت سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری ہوا اس کے بعد آپ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد، گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں، گورنمنٹ کالج شیروان ایبٹ آباد میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بالآخر گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں سے 8 جنوری 2013 کو بیسویں گریڈ میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔۔1972ء میں تحصیل علم کے بعد جب آپ گھر واپس آئے تو مرکزی جامع مسجد حویلیاں میں اپنے والد گرامی کے ساتھ نائب کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے یہ سلسلہ والد گرامی کی وفات 1990 تک جاری رہا۔۔اس مسجد کی بنیاد آپ کے والد گرامی نے 1956 میں رکھی تھی۔۔آپ ایک اچھے خطیب اور مقرر ہیں۔۔26 جولائی 1990ء کو آپ کے والد گرامی کا انتقال ہوا۔۔اگلے روز والد گرامی کی نماز جنازہ سے قبل علاقہ بھر کے جملہ اقوام و قبائل کے شدید اصرار پر جمعیت العلماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سمیع الحق صاحب کے دست مبارک سے آپ کی دستار بندی کی گئی اور آپ کو اپنے والد گرامی مرحوم کی جگہ مرکزی جامع مسجد حویلیاں کا محکمہ اوقاف صوبہ سرحد کی طرف سے اعزازی طور پر خطیب مقرر کیا گیا۔۔بحمداللہ اب تک آپ یہ ذمہ داری بحسن و خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔۔آپ 1974ء میں حضرت مولانا قاضی بشیر احمد پسروریؒ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔۔18/اکتوبر 1982ء کو مولانا انظر شاہ کشمیریؒ (فرزند جلیل علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ) ایبٹ آباد تشریف لائے تو حویلیاں کی جامع مسجد میں بھی ان کا بیان رکھا گیا۔۔جس کے بعد شاہ صاحبؒ کے ساتھ بالاکوٹ کے سفر میں شریک ہوئے اور شنکیاری ضلع مانسہرہ میں حضرت کا درس ہوا جس میں انہوں نے دیگر علماء کرام کے ساتھ آپ کو بھی سندالاجازہ فی روایۃ الحدیث عطا فرمائی۔۔1974ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔۔چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی اور بورڈ آف اسٹڈیز کی باضابطہ منظوری سے ایک طالب علم اظہر فرید رول نمبر 13163 نے 25 مئی 2015 کے خط نمبر D/429-is کے تحت ایم اے کے مقالہ کے لئے ’’پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی_حیات و خدمات‘‘ پر مقالہ پیش کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔۔پروفیسر علامہ قاضی محمد طاہر علی الہاشمی کی علمی و تحقیقی تصانیف حسب ذیل ہیں۔۔
(1) اصلاح معاشرہ 
(2) تحقیق نکاح سیدہ 
(3) اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون؟
(4) فرقہ مسعودیہ نام نہاد جماعت المسلمین کا علمی محاسبہ 
(5) حدیث حوأب کا مصداق کون؟ 
(6) حدیث کلاب حوأب کا تاریخی، تحقیقی اور علمی محاکمہ
(7) سرگزشت ہاشمی (سوانح قاضی چن پیر لہاشمی) 
(8) حج مبرور
(9) کھلا خط بنام مولانا اللہ وسایا 
(10) زلزلہ لولاک اور آفٹر شاکس
(11) عمر عائشہ رضی اللہ عنہا پر تحقیقی نظر… ایک تقابلی مطالعہ
(12) شیعیت… تاریخ و افکار 
(13) سقوط جامعہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا
(14) تعارف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ 
(15) تذکرہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
(16) سیدنا معاویہ رضی اللہ پر اعتراضات کا علمی تجزیہ
(17) عقیدہ امامت و خلافت راشدہ
(18) ملی یکجہتی کونسل…ایک تنقیدی جائزہ
(19) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ناقدین 
(20) امام طبری کون؟ مؤرخ، مجتہد یا افسانہ ساز
(21) سیدنا مروانؓ  شخصیت اور کردار
(22) توضیحات بسلسلہ امام طبری کون۔۔۔ مورخ، مجتہد یا افسانہ ساز۔۔؟؟---المعروف بہ کھلا خط بنام چیف ایڈیٹر روزنامہ اسلام
(23) کتاب گلزار یوسف کا تنقیدی جائزہ(زیر طبع)
(24) روداد مقدمات (زیر ترتیب)
راقم الحروف ( محمد اعجاز ) بھی موصوف کو اس فاضلانہ، محققانہ اور جرأت مندانہ کاوشوں پر صدق دل سے مبارکباد پیش کرتا ہے۔۔دعاء ہیکہ اللہ تعالیٰ ان کی یہ محنت قبول فرما کر ان کے لئے اس کو ذخیرہ آخرت اور لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔۔آمین۔۔

1 comment: