مانسہرہ...
مانسہرہ (ھزارہ اپڈیٹس)
خبردار،غلط ڈرائیونگ پر سڑکوں پر جھاڑو لگانا پڑ سکتا ہے،نئے ٹریفک پلان کے تحت ہر ڈرائیور کے 100 پوائنٹ مقرر کئے گئے ہیں اور پانچ چالان ہونے پر اس کے50پوائنٹ کی کٹوتی پر اسے وارننگ نوٹس جاری کیا جائیگا۔ جبکہ 10 چالان پورے ہونے یعنی 100 پوائنٹ کی کٹوتی پر اس کا لائسنس معطل کر دیا جائے گا جو کہ پبلک سوشل ماڈل رسپانسیبلٹی کے تحت مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی بھی سزا کا چناؤ کرتے ہوئے 10 یوم سے ڈیوٹی سرانجام دینی ہو گی اور پولیس ٹریننگ سکول میں لازماً کورس کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلانے اور اپنے لائسنس کی بحالی کے لئے پبلک سوشل رسپانسیبلٹی (PSR) کے تحت 10 یوم کی اپنی من پسند ڈیوٹی سرانجام دینی اور 10 یوم کی پولیس ٹریننگ حاصل کرنی لازم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ PSR کے تحت فی الوقت محکمہ جنگلات کے ساتھ کام کر کے دس پودے لگانے، ٹریفک پولیس کے ساتھ لین ڈسپلن کے لئے ڈیوٹی، ٹریفک پولیس کے ساتھ سکول ٹائم میں بچوں کو روڈ کراس کرنے میں مد د کرنے، شہری صفائی کے لئے ٹی ایم اے کے ساتھ مل کر کام کرنے، دارہ کے مقام پر پانی کی فراہمی کے لئے شہریوں کی مدد کرنے، پڑھا لکھا ہونے کی صورت میں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے اور نئے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کی تربیت دینے کی شرط کے ساتھ ساتھ پولیس ٹریننگ سکول سے 10 یوم تربیتی کورس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔غیر قانونی ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ناممکن بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے بعد خلاف قانون سرگرمیوں کے مرتکب ہونے والے ڈرائیوروں کی شامت آ گئی،10 چالان ہونے پر ڈرائیور کا لائسنس معطل کرنے کا قانون بنا دیا گیا۔ لائسنس کی بحالی کے لئے پودوں کی دیکھ بھال اور گلیوں کی صفائی کرنے کے ساتھ پولیس ٹریننگ سنٹر سے خصوصی تربیت حاصل کرنے کی شرط عائد کر دی گئی۔ منچلے ڈرائیو ر10 یوم کی تک سڑکوں پر جھاڑو پھیرتے نظر آئیں گے۔ معاشرہ کو امن کا گہوارہ اور ذمہ دار معاشرہ کا ذمہ فرد ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ سید شہزاد ندیم بخاری نے تاریخ میں پہلی مرتبہ منچلے ڈرائیوروں کی من مانیاں ختم کرنے غلط ڈرائیونگ کے زریعے شریف شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے کے لئے انوکھا قانون وضع کر دیا۔ اس بارہ میں ڈی پی او مانسہرہ سید شہزاد ندیم بخاری نے اپنے دفتر میں ٹریفک کنٹرول کے لئے بنائے گئے تین زونز کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے اور ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلانے کے لئے انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس پوائنٹ سسٹم کے نام سے ایک سیل قائم کیا گیا ہے۔ جس کی افتتاحی تقریب کے دوران ڈی پی او نے بتایا کہ اس پلان کے تحت ٹریفک کے نظام کو کنٹرول کرنے اور ٹریفک نظام میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کو ملک کی پروا نہیں بلکہ ہر کوئی اپنے گھر کی غلاظت کو گھر سے ہٹانے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ٹریفک نظام میں بہتری لانے اور ڈرائیوروں کو ان کی خلاف قانون سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کے لئے ڈرائیوروں کے پوائنٹ مقرر کئے ہیں۔ نئے ٹریفک پلان کے تحت ہر ڈرائیور کے 100 پوائنٹ مقرر کئے گئے ہیں اور پانچ چالان ہونے پر اس کے50پوائنٹ کی کٹوتی پر اسے وارننگ نوٹس جاری کیا جائیگا۔ جبکہ 10 چالان پورے ہونے یعنی 100 پوائنٹ کی کٹوتی پر اس کا لائسنس معطل کر دیا جائے گا جو کہ پبلک سوشل ماڈل رسپانسیبلٹی کے تحت مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی بھی سزا کا چناؤ کرتے ہوئے 10 یوم سے ڈیوٹی سرانجام دینی ہو گی اور پولیس ٹریننگ سکول میں لازماً کورس کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلانے اور اپنے لائسنس کی بحالی کے لئے پبلک سوشل رسپانسیبلٹی (PSR) کے تحت 10 یوم کی اپنی من پسند ڈیوٹی سرانجام دینی اور 10 یوم کی پولیس ٹریننگ حاصل کرنی لازم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ PSR کے تحت فی الوقت محکمہ جنگلات کے ساتھ کام کر کے دس پودے لگانے، ٹریفک پولیس کے ساتھ لین ڈسپلن کے لئے ڈیوٹی، ٹریفک پولیس کے ساتھ سکول ٹائم میں بچوں کو روڈ کراس کرنے میں مد د کرنے، شہری صفائی کے لئے ٹی ایم اے کے ساتھ مل کر کام کرنے، دارہ کے مقام پر پانی کی فراہمی کے لئے شہریوں کی مدد کرنے، پڑھا لکھا ہونے کی صورت میں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے اور نئے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کی تربیت دینے کی شرط کے ساتھ ساتھ پولیس ٹریننگ سکول سے 10 یوم تربیتی کورس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شرائط کا مقصد ان میں ذمہ داری شہری ہونے اور برداشت پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ نئے ٹریفک پلان کے تحت مانسہرہ شہر کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں ایک اے ایس آئی لیول کا افسر اس کا سربراہ ہو گا۔ جبکہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے ٹریفک سٹاف بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ان زونز میں کسی بھی متعلقہ افسر کی عدم دلچسپی یا شکایت کی صورت میں اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر بہتری کے نظام پر عمل درآمد یقینی نہیں ہو سکتا۔

No comments:
Post a Comment