Wednesday, 24 October 2018

ہری پور (ویب ڈیسک) سہیل احمد شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پی ایف یو جے نے پولیس کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیدی اگر قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو ڈی آئی جی کے دفتر ، صوبائی و قومی اسمبلیوں کا گھیراؤ کیا جائیگا ۔ ہریپور ٹی ایم اے حال میں پریس کلب ہریپور کی جانب سے سہیل احمد شہید کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ پاکستان ترقی کی طرف سفر کر رہا ہے جبکہ صحافت کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پی ایف یو جے نے وردی والوں کا بھی سامنا کیا ہے اور ڈکٹیٹروں کا بھی مقابلہ کیا ہے جو صورتحال آج ہے وہ صحافتی شعبے کے لیے غیر فعال ہے،ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر حسنین رضا نے کہا سہیل شہید کا قتل صحافتی کردار کا قتل ہے اگر یہ مشن جاری رہا تو صحافتی کردار ختم ہو جائے گا ایبٹ آباد پریس کلب کے صدر شاہد چوہدری نے کہا کہ ایبٹ آباد پریس کلب کے صحافیوں نے ہمیشہ ہریپور کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی پریس کلب ہریپور کے صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اس موقع پر شہید سہیل کے ماموں ملک اللہ مال نے تعزیتی ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فرضی کاروائیاں بند کرے نچلے درجے کے افسر رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہزارہ ڈویژن سے بہترین تفتیشی ٹیم مقرر کر کے شہید سہیل کے زندہ قاتلوں کو زندہ گرفتار کیا جائے گزشتہ روز ہریپور ٹی ایم اے حال میں شہید صحافی سہیل احمد کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس ہریپور یونین آف جرنلسٹ اور پریس کلب ہریپور کے صحافیوں نے کیا جس میں فیڈرل یونین کے نمائندوں کے علاوہ صدر افضل بٹ اور صوبائی صدر کے پی کے اور سابق صدر شکیل اعوان کے علاوہ پریس کلب کے ایبٹ آباد کے صدر شاہد چوہدری سردار ہارون اور ہریپور ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر حسنین رضا بھی شرکت کی اور خطاب کیا اس موقع پر تمام مقررین نے ضلع ہریپور میں شہید ہونے والے بخشیش الہی قتل کیس پر پولیس کی جانب سے ٹھیک تفتیش نہ کرنے اور اس کے قتل کو پس پشت ڈالنے پر تنقید کی اور اسی طرح سہیل شہید کے واقعے پر روشنی ڈالی گئی اس موقع پر یکجا ہو کر تمام صحافتی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر رہ کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا

Sunday, 25 February 2018

Haripur Hazara

ہری پور۔ نڑتوپہ پیر کے پاس آنے والا ایک شخص جان بحق ہو گیا آزاد کشمیر کا رہائشی دم کروانے نڑتوپہ آیا اور گاڑی کی ٹکر لگنے سے جان بحق ہو گیا
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز غلام حسین ولد لساں سکنہ آزاد کشمیر اپنی فیملی کے ہمراہ نڑتوپہ دم کروانے آیا اور سڑک پر تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر جان بحق ہو گیا بظاہر تو یہ ایک عام سی خبر ہے اور ایسا ہوجانا کوئی حیرت کی بات نہیں یہ محض اتفاقیہ حادثہ بھی ہو سکتا ہے لیکن افسوسناک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ اس زیارت پر آنے والے ظاہرین دم سے پہلے دم کے دوران یا دم کے بعد کسی نہ کسی حادثے یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں
ذرائع نے عوام کی آواز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پیر (ف) کافی عرصہ سے یہاں پر دم درود اور علاج معالجہ میں مصروف ہے کوئی ڈگری نہ رکھنے کے باوجود وہ مبینہ طور پر جنات کی مدد سے لوگوں کی آنکھوں، گردے، پیٹ، پِتے اور دیگر اعضاء کا آپریشن کرتے ہیں مریض کو ایک کمرے میں لٹا دیا جاتا ہے اور جنات کی مبینہ مدد سے مریض کا آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے آپریشن کے بعد مریض کو 21 دن کی احتیاطی تدابیر لکھ کر دی جاتی ہیں
ذرائع نے بتایا کہ کئی مریض آپریشن کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ پیر صاحب مریدین کو یہ بتاتے ہیں مریض نے آپریشن کے دوران جنات کو دیکھنے کی کوشش کی ہو گی جس کی وجہ سے مریض مر گیا کیونکہ آپریشن سے پہلے مریض کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ آنکھ نہ کھولنا ورنہ جان چلی جائے گی آپریشن کی فیس پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک ہے کسی سے پانچ سو وصول کرنے ہیں اور کس سے ایک ہزار اِس کا فیصلہ پیر صاحب مریض کا مرض دیکھ کر کرتے ہیں حیرت ہے کہ جو لوگ آپریشن کے دوران نہیں مرتے وہ آپریشن کے بعد یا آپریشن سے پہلے کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں اس زیارت سے بچ کر جانے والے مریدوں کی تعداد کافی کم ہے لیکن اس کے باوجود مریدوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے پیر صاحب اپنے مریدوں کو باقاعدہ ڈاکٹر بھی بناتے ہیں اور اُس کام کے لیے سبز لباس اور پاؤں میں زنجیریں پہن کر مرید کو پیر صاحب کے ساتھ رہنا پڑتا ہے پیر صاحب یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ اپنے مریدوں کو یہ ڈگریاں کیسے جاری کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنات نکالنے کے دوران تشدد سے بھی مریدوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں دوسری طرف ضلعی انتظامیہ ان تمام کاموں سے باخبر ہونے کے باوجود کسی قسم کی کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے کیونکہ لوگوں کی بد عقیدتی پیر صاحب کی ڈھال ہے
عوامی حلقوں نے مقامی انتظامیہ سے کاروائی کر کے اصل حقائق عوام تک لانے کا مطالبہ کیا ہے.

Monday, 29 January 2018

سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف

پرویز مشرف غالباً پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 65 کی جنگ میں مشرف سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر اگلے مورچے پر لڑا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے کیمپ میں اکیلا رہ گیا تھا، دشمن کی توپوں کے گولے اور فائرنگ مسلسل ہورہی تھی لیکن مشرف نے اپنا کیمپ نہ چھوڑا اور مقابلہ کرتا رہا تاکہ بھارتی فوجوں کو یہ نہ لگے کہ اس محاذ پر پاکستانی فوج نہیں رہی ورنہ شاید 65 کی جنگ کا نتیجہ ہمارے لئے کافی پریشان کن ہوتا۔ اس وقت مشرف کو گولیاں بھی لگیں اور توپ کے گولوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے ذخمی بھی ہوا۔

مشرف کو اس کی اس بہادری پر امتیازی تمغہ بھی ملا اور اس کے کمانڈنگ آفیسر کی سفارش پر اسے سپیشل فورس سکول میں بھیجا گیا جہاں سے وہ سپیشل سروسز گروپ میں کمانڈو ٹریننگ حاصل کرکے نکلا۔ 

مشرف نے 71 کی جنگ میں بھی پلاننگ کی حد تک حصہ لیا اور لیکن اس کی ڈھاکہ روانگی سے چند گھنٹے قبل معاملہ ختم ہوچکا تھا۔

80 کی دہائی میں جنرل ضیا کو سیاچن کیلئے ایک سخت جان کمانڈر کی ضرورت پڑی تو اس کا انتخاب مشرف ہی ٹھہرا۔ مشرف کو درس و تدریس کا شوق تھا جس کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائی میں مشرف نے پہلے خود پولیٹیکل سائنس پڑھی اور بعد میں ملٹری نوجوانوں کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ' جنگی حکمت عملی ' بھی پڑھائی۔

2001 میں امریکہ کی طرف سے افغان جنگ شروع کرنے کا اعلان ہوا جس کیلئے پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی۔ امریکی وزیرخارجہ نے مشرف کو کال ملائی اور جنگ میں مدد کرنے کی درخواست کی جو کہ مشرف نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر قبول کرلی۔ کہتے ہیں کہ مشرف کی فوری آمادگی سے امریکی وزیرخارجہ اتنا حیران اور خوش ہوا کہ اس نے صدر بش کو آدھی رات کے وقت سوئے ہوئے جگا کر یہ خوشی کی خبر سنائی۔

دوسری طرف پاکستان میں اس وقت نوازشریف کے تنخواہ دار کالم نویس بشمول عرفان صدیقی اور چند دوسرے لفافہ صحافیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انہوں نے مشرف کو ایک کال پر لیٹ جانے والا بزدل کمانڈو جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے یاد کرنا شروع کردیا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی اس وقت ان کالم نویسوں کی باتوں کو سچ جانتے ہوئے مشرف کو بزدل کمانڈر سمجھنا شروع ہوگیا تھا۔

اب آجائیں 2001 میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کی '  مشرف ' کو کی گئی کال کے اصل احوال پر۔

جب کولن پاول نے مشرف کو کال کرکے افغان وار میں شمولیت کا کہا تو اس وقت مشرف ایک ہاتھ میں سگار تھامے اور سامنے کافی کا کپ رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کی ٹیبل پر  ' سٹریٹیجی آن وار فئیرز ' کی کتابیں رکھی تھیں اور دماغ میں مستقبل کا نقشہ ترتیب پارہا تھا۔

کولن پاول کو آپ ایک کیرئیر ڈپلومیٹ سمجھ لیں، باوجود اس کے کہ وہ ملٹری امور میں بھی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا ہوگا لیکن وہ مشرف کی اس فوراً ' ہاں ' کا بیک گراؤنڈ نہ سمجھ سکا اور افغان وار شروع کردی۔

میرے ذاتی تجزئے کے مطابق امریکہ کو افغانستان میں گھیر کر لانے والا پرویز مشرف تھا۔ طبیعت کے اعتبار سے مشرف ایم مہم جو انسان ہے، اس کے ذہن میں گوریلا وار کا پورا نقشہ ترتیب پاچکا تھا اور اسے لگا کہ وہ افغانستان کو امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا کر رکھ سکتا ہے، قدرت ایسے مواقع صدیوں بعد دیتی ہے، چنانچہ مشرف نے بھی اسی ایسا ہی موقع جانا اور اپنا داؤ کھیل دیا۔

آج افغان وار شروع ہوئے 16 برس ہوچکے ہیں۔ امریکہ سرکاری طور پر اس جنگ میں 900 بلین ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ اگر تمام اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ تخمینہ ہولناک طور پر 3 سے 5 ٹریلین ڈالرز تک جاپہنچا ہے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہے اور اس سے بھی بڑا نقصان ' ریپوٹیشن ڈیمیج ' کی صورت میں ہوا کہ افغانیوں جیسے تباہ حال اور پتھروں کے دور میں رہنے والوں سے ابھی تک امریکہ جنگ نہ جیت سکا۔

مشرف کی حکمت عملی کی وجہ سے طالبان جس طرح امریکی راڈارز سے غائب ہو کر منظم ہونا شروع ہوئے، اس سے امریکہ بوکھلا کر رہ گیا۔ امریکہ کے پاس وسائل موجود تھے لیکن ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی، مشرف نے امریکہ کو اپنی ذہانت سے افغانستان میں پھنسا دیا اور اب وہ جو مرضی کرلے، یہاں سے نکل نہیں سکتا۔

آپ افغانستان کو امریکہ کا ' نوازشریف ' سمجھ لیں، جو ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر کھارہا ہے اور امریکہ کچھ نہیں کرسکتا۔

اگر آج ٹرمپ پاکستان کے خلاف کاروائی کی دھمکی دیتا ہے تو یاد رکھیں، یہ سوائے دھمکی کے اور کچھ نہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اپنا سب کچھ کھوچکا جبکہ پاکستان کیلئے ابھی بھی پانے کیلئے بہت کچھ باقی ہے۔

اگر کسی کو شک ہو تو جنرل باجوہ کی امریکیوں کے ساتھ جاری کردی کل کی تصویر ملاحظہ کرلیں۔ جنرل باجوہ سر پر ٹوپی رکھے بغیر، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، اپنی پشت کرسی سے لگائے انتہائی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ امریکی مہمان کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تصویر پینٹاگون نے بھی دیکھی ہے اور اب وہ ایک مرتبہ پھر اپنا سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ٹرمپ پاکستان کی اہمیت کا اعتراف بھی کرے گا اور اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے تاثر کی نفی کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔

میں نے پوسٹ کے آغاز میں لکھا تھا کہ مشرف وہ واحد جرنیل ہے جس نے تمام جنگوں میں حصہ لیا، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان میں 65، 71، سیاچن، روس کے خلاف افغان وار اور کارگل کی جنگیں شامل ہیں۔

ان میں امریکی افغان وار بھی شامل کرلیں۔ مشرف یہ جنگ افغانستان کی طرف سے امریکہ کے خلاف لڑا اور اکیلا ہی اس پر بھاری پڑ گیا...

زبردست تحریر

ﺍﯾﮏ ﺳﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ.ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻻﻟﮯ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻧﯿﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺭﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ 'ﺑﯿﭩﺎ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﭽﺎ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ.
ﮐﮩﻨﺎ ﯾﮧ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ.بیٹا ﻭﮦ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﭽﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ.
ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮑﮫ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ بیٹا، ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ
ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺪﺍ ﮨﮯ.تھوڑا ﺭﮎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﺎ ، ﺍﭼﮭﮯ ﺩﺍﻡ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﻞ ﺳﮯدﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ. اﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﯿﺮﻭﮞ ﻭ ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ
ﻟﮕﺎ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﻣﺎﮨﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ.
ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﺁﻧﮯ لگے
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺑﯿﭩﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ہاﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰﯼ ہﮯ، اﺱ ﮐﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﺍﻡ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.
ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ جعلی ﮨﮯ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ.
ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﮨﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺋﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﺟﻌﻠﯽ ﺗﮭﺎ.
ﺗﺐ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺐ ﺗﻢ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ، اﺳﻮﻗﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻌﻠﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺑﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭼﭽﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰ کو ﺑﮭﯽ ﺟﻌﻠﯽ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ.
ﺁﺝ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﻋﻠﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﺭ ﻧﻘﻠﯽ ﮨﮯ.
ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ سوﭼﺘﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺳﺐ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ.
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﺷﺘﮯ ﺑﮕﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺭﻧﺠﺶ ﭘﺮ، ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ.
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ...

Sunday, 28 January 2018

تعارف پروفیسر علامہ قاضی طاہرالہاشمی..


---------- تعارف مصنف ---------
پروفیسر علامہ قاضی محمد طاہر علی الہاشمی معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا قاضی چن پیر الہاشمی کے گھر سکول ریکارڈ کے مطابق 9 جنوری 1953ء کو تحصیل حویلیاں کے گاؤں رجوعیہ میں پیدا ہوئے۔۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدگرامی اور تایا جان مولانا قاضی عبدالواحد صاحب (جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید تھے) سے حاصل کی۔۔1963ء میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا قیام عمل میں آیا جس کا باقاعدہ افتتاح 9 /اکتوبر 1963ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کیا، آپ کے والد محترم کو تدریس کے لئے بلایا گیا تو وہ آپکو بھی اپنے ساتھ لے گئے، حالانکہ اس وقت آپ کی عمر 10سال تھی۔۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے پہلے صدر علامہ شمس الحق افغانی اس یونیورسٹی میں بحیثیت ’’شیخ التفسیر‘‘ اور علامہ احمد سعید کاظمی بحیثیت ’’شیخ الحدیث‘‘ جبکہ جامعۃ الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید نعمانی اس وقت نائب شیخ الحدیث کے فرائض انجام دے رہے تھے۔۔جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں 9 سالہ قیام کے دوران آپ نے شہادت العالمیہ کا نصاب مکمل کیا جس میں تفسیر و اصول تفسیر، حدیث و فقہ، عربی ادب، انگریزی، معاشیات کے مضامین مستند علماء سے پڑھیں۔۔آپکی قابلیت کو دیکھتے ہوئے حضرت علامہ شمس الحق افغانیؒ نے آپ کو ’’سند القرآن الکریم‘‘ اور علامہ احمد سعید کاظمی نے آپ کو ’’سند اجازۃ فی روایۃ الحدیث‘‘ کی اضافی سندات سے نوازا۔۔جامعہ اسلامیہ میں قیام کے دوران آپ نے جن گرامی قدر اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ان میں علامہ شمس الحق افغانیؒ، علامہ احمد سعید کاظمی اور نائب شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید نعمانی کے علاوہ کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔۔معروف مبلغ اسلام مولانا محمد احمد صاحب بہاولپوری، ڈاکٹر الٰہی بخش جاراللہ، مولانا لطافت الرحمن (فاضل دیوبند)، شیخ مولانا سید حبیب اللہ شاہ بنوری (فاضل دیوبند) مولانا حسن الدین ہاشمی (شیخ الفقہ) ، ڈاکٹر محمد حسن ازہری (شیخ الادب) ، ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ (شیخ التاریخ)، مولانا شیخ کلیم اللہ، مولانا محمد فرید، مولانا محمد ناصر، پروفیسر چراغ عالم قریشی (صدر شعبہ انگریزی) پروفیسر محمد زبیر (شعبہ اکنامکس) وغیرہ۔۔
1973ء میں مولانا قاری فضل ربی صاحبؒ (مہتمم معہدالقرآن الکریم مانسہرہ) نے آپ کو سند القراءت والتجوید للفرقان الحمید علی روایۃ حفص کی اعزازی سند عطا کی۔۔1976ء میں آپ نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔۔پھر مائیگریشن کے بعد 1977ء میں پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔۔ جنوری 1978ء گورنمنٹ کالج سدہ (کرم ایجنسی) میں اسلامیات کے ’’ایڈہاک لیکچرر‘‘ کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔۔مئی 1978ء میں ’’پبلک سروس کمیشن صوبہ سرحد‘‘ کی طرف سے بھی عربی و اسلامیات کے لیکچرر کی حیثیت سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری ہوا اس کے بعد آپ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد، گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں، گورنمنٹ کالج شیروان ایبٹ آباد میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بالآخر گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں سے 8 جنوری 2013 کو بیسویں گریڈ میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔۔1972ء میں تحصیل علم کے بعد جب آپ گھر واپس آئے تو مرکزی جامع مسجد حویلیاں میں اپنے والد گرامی کے ساتھ نائب کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے یہ سلسلہ والد گرامی کی وفات 1990 تک جاری رہا۔۔اس مسجد کی بنیاد آپ کے والد گرامی نے 1956 میں رکھی تھی۔۔آپ ایک اچھے خطیب اور مقرر ہیں۔۔26 جولائی 1990ء کو آپ کے والد گرامی کا انتقال ہوا۔۔اگلے روز والد گرامی کی نماز جنازہ سے قبل علاقہ بھر کے جملہ اقوام و قبائل کے شدید اصرار پر جمعیت العلماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سمیع الحق صاحب کے دست مبارک سے آپ کی دستار بندی کی گئی اور آپ کو اپنے والد گرامی مرحوم کی جگہ مرکزی جامع مسجد حویلیاں کا محکمہ اوقاف صوبہ سرحد کی طرف سے اعزازی طور پر خطیب مقرر کیا گیا۔۔بحمداللہ اب تک آپ یہ ذمہ داری بحسن و خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔۔آپ 1974ء میں حضرت مولانا قاضی بشیر احمد پسروریؒ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔۔18/اکتوبر 1982ء کو مولانا انظر شاہ کشمیریؒ (فرزند جلیل علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ) ایبٹ آباد تشریف لائے تو حویلیاں کی جامع مسجد میں بھی ان کا بیان رکھا گیا۔۔جس کے بعد شاہ صاحبؒ کے ساتھ بالاکوٹ کے سفر میں شریک ہوئے اور شنکیاری ضلع مانسہرہ میں حضرت کا درس ہوا جس میں انہوں نے دیگر علماء کرام کے ساتھ آپ کو بھی سندالاجازہ فی روایۃ الحدیث عطا فرمائی۔۔1974ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔۔چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی اور بورڈ آف اسٹڈیز کی باضابطہ منظوری سے ایک طالب علم اظہر فرید رول نمبر 13163 نے 25 مئی 2015 کے خط نمبر D/429-is کے تحت ایم اے کے مقالہ کے لئے ’’پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی_حیات و خدمات‘‘ پر مقالہ پیش کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔۔پروفیسر علامہ قاضی محمد طاہر علی الہاشمی کی علمی و تحقیقی تصانیف حسب ذیل ہیں۔۔
(1) اصلاح معاشرہ 
(2) تحقیق نکاح سیدہ 
(3) اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون؟
(4) فرقہ مسعودیہ نام نہاد جماعت المسلمین کا علمی محاسبہ 
(5) حدیث حوأب کا مصداق کون؟ 
(6) حدیث کلاب حوأب کا تاریخی، تحقیقی اور علمی محاکمہ
(7) سرگزشت ہاشمی (سوانح قاضی چن پیر لہاشمی) 
(8) حج مبرور
(9) کھلا خط بنام مولانا اللہ وسایا 
(10) زلزلہ لولاک اور آفٹر شاکس
(11) عمر عائشہ رضی اللہ عنہا پر تحقیقی نظر… ایک تقابلی مطالعہ
(12) شیعیت… تاریخ و افکار 
(13) سقوط جامعہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا
(14) تعارف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ 
(15) تذکرہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
(16) سیدنا معاویہ رضی اللہ پر اعتراضات کا علمی تجزیہ
(17) عقیدہ امامت و خلافت راشدہ
(18) ملی یکجہتی کونسل…ایک تنقیدی جائزہ
(19) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ناقدین 
(20) امام طبری کون؟ مؤرخ، مجتہد یا افسانہ ساز
(21) سیدنا مروانؓ  شخصیت اور کردار
(22) توضیحات بسلسلہ امام طبری کون۔۔۔ مورخ، مجتہد یا افسانہ ساز۔۔؟؟---المعروف بہ کھلا خط بنام چیف ایڈیٹر روزنامہ اسلام
(23) کتاب گلزار یوسف کا تنقیدی جائزہ(زیر طبع)
(24) روداد مقدمات (زیر ترتیب)
راقم الحروف ( محمد اعجاز ) بھی موصوف کو اس فاضلانہ، محققانہ اور جرأت مندانہ کاوشوں پر صدق دل سے مبارکباد پیش کرتا ہے۔۔دعاء ہیکہ اللہ تعالیٰ ان کی یہ محنت قبول فرما کر ان کے لئے اس کو ذخیرہ آخرت اور لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔۔آمین۔۔

درگزر




عدل و انصاف

دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص  کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں۔
 "یا عمر ؓ یہ ہے وہ شخص!"

سیدنا عمر ؓ  ان سے پوچھتے ہیں۔
"کیا کیا ہے اس شخص نے؟"

"یا امیر المؤمنین، اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل  کیا ہے۔"

"کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟"
سیدنا عمرؓ ان سے پوچھتے ہیں۔

سیدنا عمر ؓ پھر اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں۔
 "کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟"

وہ شخص کہتا ہے :
 "ہاں امیر المؤمنین،  مجھ سے قتل ہو گیا ہے ان کا باپ۔"

"کس طرح قتل کیا ہے؟"
سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

"یا عمرؓ، ان کا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے  ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔"

"پھر تو قصاص دینا  پڑے گا، موت ہے اس کی سزا۔"
 سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں۔ نہ ہی اس شخص سے اس کے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر  شریف خاندان  سے ہے؟ نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں؟ معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے؟؟؟ کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓپر کوئی بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے  پر عمرؓ کو  روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ  قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

وہ شخص کہتا ہے۔
"اے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں۔ مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تا کہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اس کے بعد واپس آ جاؤں گا۔"

سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں:
"کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء  میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟"

مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو  ایسا نہیں ہے جو اس کا نام تک بھی جانتا ہو۔ اس کے قبیلے، خیمے یا  گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اس کی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا  زمین کے ٹکڑے  یا کسی اونٹ کے سودے  کی ضمانت کا معاملہ ہے؟  ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے، جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض  کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کی لئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ ؓ  پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود حضرت عمر ؓ  بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت  نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کے لئے چھوڑ دیئے جائیں؟  یا پھر اس کو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا  جائے؟  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا عمرؓ  سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں،
"معاف کر دو اس شخص کو۔"

"نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے، اس کو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا"، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

 حضرت عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں۔
"اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس شخص کی ضمانت دے؟"

حضرت ابوذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔
"میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!"

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔
 "ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔"

"چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو"، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمرؓ: "جانتے ہو اسے؟"

ابوذرؓ: "نہیں جانتا اسے"

عمرؓ: "تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟"

ابوذرؓ: "میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔"

عمرؓ: "ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تمہاری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔"

"امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔"
سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کے لئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے،  اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر  واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت  شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

حضرت ابوذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر حضرت عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

"کدھر ہے وہ آدمی؟"
سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔

"مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین"،
ابوذر ؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں آج معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا  ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا  مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں، کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں  اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے۔ بےساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

حضرت عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔
 "اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا"

"امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپ کی نہیں ہے، بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو  پرندوں کے چوزوں کی طرح  صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے"۔

سیدنا عمرؓ نے ابوذرؓ کی طرف رخ کر کے پوچھا۔
"ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اس کی ضمانت دے دی تھی؟"

ابوذرؓ نے کہا،
"اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔"

سیدنا عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دونوں نوجوانوں سے پوچھا۔
"کہ کیا کہتے ہو اب؟"

نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا،
"اے امیر المؤمنین، ہم اس شخص کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے"۔

سیدنا عمرؓ  اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

"اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔"

"اے ابوذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے"۔

اور

 "اے شخص،  اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے"۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں،
 "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں"۔

اور اے اللہ، جزائے خیر دے اپنے بے کس بندے کو، جس نے ترجمہ کر کے اس پیغام کو اپنے احباب تک پہنچایا۔

اور اے اللہ، جزائے خیر دینا ان کو بھی، جن کو یہ پیغام اچھا لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں۔

آمین یا رب العالمین۔

خبردار غلط ڈرائیونگ پر سڑکوں پر جھاڑو لگوایا جاسکتا ہے


مانسہرہ...

مانسہرہ (ھزارہ اپڈیٹس)
خبردار،غلط ڈرائیونگ پر سڑکوں پر جھاڑو لگانا پڑ سکتا ہے،نئے ٹریفک پلان کے تحت ہر ڈرائیور کے 100 پوائنٹ مقرر کئے گئے ہیں اور پانچ چالان ہونے پر اس کے50پوائنٹ کی کٹوتی پر اسے وارننگ نوٹس جاری کیا جائیگا۔ جبکہ 10 چالان پورے ہونے یعنی 100 پوائنٹ کی کٹوتی پر اس کا لائسنس معطل کر دیا جائے گا جو کہ پبلک سوشل ماڈل رسپانسیبلٹی کے تحت مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی بھی سزا کا چناؤ کرتے ہوئے 10 یوم سے ڈیوٹی سرانجام دینی ہو گی اور پولیس ٹریننگ سکول میں لازماً کورس کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلانے اور اپنے لائسنس کی بحالی کے لئے پبلک سوشل رسپانسیبلٹی (PSR) کے تحت 10 یوم کی اپنی من پسند ڈیوٹی سرانجام دینی اور 10 یوم کی پولیس ٹریننگ حاصل کرنی لازم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ PSR کے تحت فی الوقت محکمہ جنگلات کے ساتھ کام کر کے دس پودے لگانے، ٹریفک پولیس کے ساتھ لین ڈسپلن کے لئے ڈیوٹی، ٹریفک پولیس کے ساتھ سکول ٹائم میں بچوں کو روڈ کراس کرنے میں مد د کرنے، شہری صفائی کے لئے ٹی ایم اے کے ساتھ مل کر کام کرنے، دارہ کے مقام پر پانی کی فراہمی کے لئے شہریوں کی مدد کرنے، پڑھا لکھا ہونے کی صورت میں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے اور نئے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کی تربیت دینے کی شرط کے ساتھ ساتھ پولیس ٹریننگ سکول سے 10 یوم تربیتی کورس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔غیر قانونی ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ناممکن بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے بعد خلاف قانون سرگرمیوں کے مرتکب ہونے والے ڈرائیوروں کی شامت آ گئی،10 چالان ہونے پر ڈرائیور کا لائسنس معطل کرنے کا قانون بنا دیا گیا۔ لائسنس کی بحالی کے لئے پودوں کی دیکھ بھال اور گلیوں کی صفائی کرنے کے ساتھ پولیس ٹریننگ سنٹر سے خصوصی تربیت حاصل کرنے کی شرط عائد کر دی گئی۔ منچلے ڈرائیو ر10 یوم کی تک سڑکوں پر جھاڑو پھیرتے نظر آئیں گے۔ معاشرہ کو امن کا گہوارہ اور ذمہ دار معاشرہ کا ذمہ فرد ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ سید شہزاد ندیم بخاری نے تاریخ میں پہلی مرتبہ منچلے ڈرائیوروں کی من مانیاں ختم کرنے غلط ڈرائیونگ کے زریعے شریف شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے کے لئے انوکھا قانون وضع کر دیا۔ اس بارہ میں ڈی پی او مانسہرہ سید شہزاد ندیم بخاری نے اپنے دفتر میں ٹریفک کنٹرول کے لئے بنائے گئے تین زونز کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے اور ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلانے کے لئے انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس پوائنٹ سسٹم کے نام سے ایک سیل قائم کیا گیا ہے۔ جس کی افتتاحی تقریب کے دوران ڈی پی او نے بتایا کہ اس پلان کے تحت ٹریفک کے نظام کو کنٹرول کرنے اور ٹریفک نظام میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کو ملک کی پروا نہیں بلکہ ہر کوئی اپنے گھر کی غلاظت کو گھر سے ہٹانے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ٹریفک نظام میں بہتری لانے اور ڈرائیوروں کو ان کی خلاف قانون سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کے لئے ڈرائیوروں کے پوائنٹ مقرر کئے ہیں۔ نئے ٹریفک پلان کے تحت ہر ڈرائیور کے 100 پوائنٹ مقرر کئے گئے ہیں اور پانچ چالان ہونے پر اس کے50پوائنٹ کی کٹوتی پر اسے وارننگ نوٹس جاری کیا جائیگا۔ جبکہ 10 چالان پورے ہونے یعنی 100 پوائنٹ کی کٹوتی پر اس کا لائسنس معطل کر دیا جائے گا جو کہ پبلک سوشل ماڈل رسپانسیبلٹی کے تحت مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی بھی سزا کا چناؤ کرتے ہوئے 10 یوم سے ڈیوٹی سرانجام دینی ہو گی اور پولیس ٹریننگ سکول میں لازماً کورس کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلانے اور اپنے لائسنس کی بحالی کے لئے پبلک سوشل رسپانسیبلٹی (PSR) کے تحت 10 یوم کی اپنی من پسند ڈیوٹی سرانجام دینی اور 10 یوم کی پولیس ٹریننگ حاصل کرنی لازم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ PSR کے تحت فی الوقت محکمہ جنگلات کے ساتھ کام کر کے دس پودے لگانے، ٹریفک پولیس کے ساتھ لین ڈسپلن کے لئے ڈیوٹی، ٹریفک پولیس کے ساتھ سکول ٹائم میں بچوں کو روڈ کراس کرنے میں مد د کرنے، شہری صفائی کے لئے ٹی ایم اے کے ساتھ مل کر کام کرنے، دارہ کے مقام پر پانی کی فراہمی کے لئے شہریوں کی مدد کرنے، پڑھا لکھا ہونے کی صورت میں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے اور نئے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کی تربیت دینے کی شرط کے ساتھ ساتھ پولیس ٹریننگ سکول سے 10 یوم تربیتی کورس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شرائط کا مقصد ان میں ذمہ داری شہری ہونے اور برداشت پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ نئے ٹریفک پلان کے تحت مانسہرہ شہر کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں ایک اے ایس آئی لیول کا افسر اس کا سربراہ ہو گا۔ جبکہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے ٹریفک سٹاف بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ان زونز میں کسی بھی متعلقہ افسر کی عدم دلچسپی یا شکایت کی صورت میں اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر بہتری کے نظام پر عمل درآمد یقینی نہیں ہو سکتا۔

عدل و انصاف

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﮌﺍ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ
ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎ،
ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﯽ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
”ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﺎﺅﮞ ﮨﮯ، ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺎﭨﺎ
ﭼﮭﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﺟﮍ ﺍ ﮨﻮﮔﺎ۔۔۔؟ “ ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﻃﯽ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ”ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍُﻟﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ “ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻃﻮﻃﺎ ﻃﻮﻃﯽ ﮐﻮ ﮔﺎﺅﮞ ﺍﺟﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺑﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻋﯿﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﺍﻟّﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ
ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮎ ﮐﺮ
ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ، ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ، ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ
ﮨﻮ، ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﺮ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ ،ﺍﺱ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ
ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ، ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮈﻧﺮ ﮐﺮﻭ، ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ
ﺭﺍﺕ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮔﻠﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ
ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮍﯼ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﺎ ﺟﻮﮌﺍ ﺍﻧﮑﺎﺭ
ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯽ،
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍُﻟﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ، ﺍُﻟﻮ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺗﮑﻠﻒ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ، ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻧﮯ
ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺍﺭﯼ، ﺻﺒﺢ
ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﻮﺍﺯﯼ ﭘﺮ
ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭼﺎﮨﯽ، ﺗﻮ
ﺍُﻟﻮ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ”ﻣﯿﺮﯼ
ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺟﺎﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﻃﻮﻃﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ” ﮐﯿﻮﮞ “
ﺍُﻟﻮ ﺑﻮﻻ ” ﺍﺳﻠﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻃﻮﻃﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ “ ﻃﻮﻃﺎ
ﭼﻼﯾﺎ ” ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ”ﺗﻢ ﺍُﻟﻮ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻃﻮﻃﮯ
ﮨﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﻃﻮﻃﯽ ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ “ ﺍُﻟﻮ
ﻧﮯ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺗﻢ ﻣﺎﻧﻮ ﯾﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ
ﻃﻮﻃﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ
ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﺤﺚ ﻭ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﺍُﻟﻮ ﻧﮯ
ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
”ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮﺭﭦ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ
ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻗﺎﺿﯽ ﺟﻮ
ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﮮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﮔﺎ “ ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﭘﺮ
ﻃﻮﻃﺎ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﻃﯽ ﻣﺎﻥ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ
ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺋﮯ، ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﻋﺪﺍﻟﺖ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺩﺍﺋﺮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﻃﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ
ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ، ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ،ﺍُﻟﻮ ﺑﯿﺎﻥ ﺩﯾﻨﮯ
ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ،ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻠﻒ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ” ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ
ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﺳﭻ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ، ﺳﭻ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ
ﮔﺎ “ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﻃﻮﻃﯽ ﮐﻮ
ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺌﮯ، ﺍُﻟﻮ
ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﯾﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍُﻟﻮ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﯼ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﯽ
ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﻮ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻋﺪﺍﻟﺖ
ﺑﺮﺧﺎﺳﺖ ﮐﺮﺩﯼ، ﻃﻮﻃﺎ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﭘﺮ ﺭﻭﺗﺎ ﺭﮨﺎ،
ﭼﻼﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮨﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ
ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔
ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻭ ﻧﺎﻣﺮﺍﺩ ﺟﺐ ﻃﻮﻃﺎ ﺍﮐﯿﻼ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺍُﻟﻮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ
ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ، ” ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ
ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺟﺎﺅ “ ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﺍُﻟﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ”ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﮏ
ﭼﮭﮍﮐﺘﮯ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ،ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﺗﻮ
ﺍﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ “ ﺍُﻟﻮ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ
ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺩﺍﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ، ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻻﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍُﺱ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺍﺟﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﻭﺟﮧ ﺑﺘﺎ
ﺳﮑﻮﮞ، ﺟﺲ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻣﻠﮏ
ﮐﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﺍﻟﺘﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮨﻮﻧﮕﯽ، ﻭﮦ
ﻣﻠﮏ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ، ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﺅﮞ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﺟﮍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ
ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ،
ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ، ﮔﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺍُﻟﻮﺅﮞ
ﮐﯽ ﻧﺤﻮﺳﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺟﮍﺗﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﺑﮯ
ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺟﮍﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻧﺤﻮﺳﺖ ﺍُﻟﻮﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﻧﺤﻮﺳﺖ ﻇﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﻣﯿﮟ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ “

اخلاص نیت

  
اِخلاص کسے کہتے ہیں۔۔۔

جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں اب کٹوا کے آنا۔پیسے کوئی تھے نہیں پاس میں، حجام کی دُکان کے سامنے پہنچے تو وہ گاہک کے بال کاٹ رھا تھا۔اُنہوں نے عرض کی چاچا اللہ کے نام پہ بال  کاٹ دو گے۔یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پر کیا اور کہنے لگا۔پیسوں کے لیے توروز کاٹتا ھوں۔اللہ کے لیے آج کوئی آیا ھے۔
اب انُکا سر چُوم کے کُرسی پہ بٹھایا روتے جاتے اور بال کاٹتے جاتے۔حضرت جنید بغدادی نے سوچا کہ زندگی میں جب کبھی پیسے ھوئے توان کو ضرور کچھ دوں گا۔
عرصہ گزر گیا یہ بڑے صوفی بزرگ بن گئے۔
ایک دن ملنے کے لیے گئے واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔تو حجام کہنے لگا جُنید تو اتنا بڑاصوفی ھوگیا تجھےاتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔